بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قوم کا مولیٰ انہی میں سے ہے
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب موالي قوم کا مولیٰ انہی میں سے ہے
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 1
حدیث نمبر: 75 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ خَالِدٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ عُثْمَانَ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي إِسْمَاعِيلُ بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ أَبِيهِ عُبَيْدٍ، عَنْ رِفَاعَةَ بْنِ رَافِعٍ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِعُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ‏:‏ ”اجْمَعْ لِي قَوْمَكَ“، فَجَمَعَهُمْ، فَلَمَّا حَضَرُوا بَابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ دَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَقَالَ‏:‏ قَدْ جَمَعْتُ لَكَ قَوْمِي، فَسَمِعَ ذَلِكَ الأَنْصَارُ فَقَالُوا‏:‏ قَدْ نَزَلَ فِي قُرَيْشٍ الْوَحْيُ، فَجَاءَ الْمُسْتَمِعُ وَالنَّاظِرُ مَا يُقَالُ لَهُمْ، فَخَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ بَيْنَ أَظْهُرِهِمْ فَقَالَ‏:‏ ”هَلْ فِيكُمْ مِنْ غَيْرِكُمْ‏؟“‏ قَالُوا‏:‏ نَعَمْ، فِينَا حَلِيفُنَا وَابْنُ أُخْتِنَا وَمَوَالِينَا، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:‏ ”حَلِيفُنَا مِنَّا، وَابْنُ أُخْتِنَا مِنَّا، وَمَوَالِينَا مِنَّا، وَأَنْتُمْ تَسْمَعُونَ‏:‏ إِنَّ أَوْلِيَائِي مِنْكُمُ الْمُتَّقُونَ، فَإِنْ كُنْتُمْ أُولَئِكَ فَذَاكَ، وَإِلاَّ فَانْظُرُوا، لاَ يَأْتِي النَّاسُ بِالأَعْمَالِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَتَأْتُونَ بِالأَثْقَالِ، فَيُعْرَضَ عَنْكُمْ“، ثُمَّ نَادَى فَقَالَ‏:‏ ”يَا أَيُّهَا النَّاسُ“، وَرَفَعَ يَدَيْهِ يَضَعَهُمَا عَلَى رُءُوسِ قُرَيْشٍ، ”أَيُّهَا النَّاسُ، إِنَّ قُرَيْشًا أَهْلُ أَمَانَةٍ، مَنْ بَغَى بِهِمْ، قَالَ زُهَيْرٌ‏:‏ أَظُنُّهُ قَالَ‏:‏ الْعَوَاثِرَ، كَبَّهُ اللَّهُ لِمِنْخِرَيْهِ“، يَقُولُ ذَلِكَ ثَلاَثَ مَرَّاتٍ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا رفاعہ بن رافع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو حکم دیا: اپنی قوم (قریش) کو جمع کرو۔ تو انہوں نے انہیں جمع کیا۔ جب وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دروازے کے باہر جمع ہو گئے تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس گئے اور عرض کیا: میں نے اپنی قوم کو آپ کے پاس جمع کر دیا ہے۔ اس (اجتماع) کی خبر انصار کو ہوئی تو انہوں نے کہا: لگتا ہے قریش کے بارے میں کوئی (خصوصی) وحی نازل ہوئی ہے، تو ان میں سے بھی سننے اور دیکھنے والے جمع ہو گئے کہ انہیں کیا کہا جاتا ہے۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (گھر سے) باہر تشریف لائے اور ان کے سامنے کھڑے ہو گئے، پھر فرمایا: کیا تم میں قریش کے علاوہ بھی کوئی ہے؟ انہوں نے کہا: ہاں! ہمارے اندر ہمارے حلیف، ہمارے بھانجے اور موالی (آزاد کردہ) بھی ہیں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہمارے حلیف بھی ہم میں سے ہیں، ہمارے بھانجے بھی ہم میں سے ہیں، اور آزاد کردہ بھی ہم سے ہیں۔ اور تم سنو! بے شک تم میں سے میرے دوست وہ ہیں جو متقی ہیں، لہٰذا اگر تم متقی ہو تو بہت خوب ورنہ دیکھ لو (ایسا نہ ہو کہ) قیامت کے روز لوگ اپنے اپنے اعمال لے کر حاضر ہوں اور تم (گناہوں کا) بوجھ لے کر حاضر ہو تو تم سے روگردانی اختیار کر لی جائے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اے لوگو! ...... اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اپنے ہاتھ قریش کے سروں پر رکھے۔ اے لوگو! بے شک قریش اہل امانت ہیں، جس نے ان پر زیادتی کی اللہ تعالیٰ اسے ناک کے بل اوندھے منہ (جہنم میں) گرا دے گا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے تین بار یہ ارشاد فرمایا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ مَوَالِي/حدیث: 75]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه أحمد: 18993 و معمر فى الجامع: 19897 و ابن أبى شيبه: 26484 و الطبراني فى الكبير: 45/5 و الحاكم: 6952 - الصحيحة: 1688، الضعيفة: 1716»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن