بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
قطع رحمی کرنے والے کا گناه
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب صلة الرحم قطع رحمی کرنے والے کا گناه
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 3
حدیث نمبر: 64 الادب المفرد
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي عَقِيلٌ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جُبَيْرِ بْنِ مُطْعِمٍ، أَنَّ جُبَيْرَ بْنَ مُطْعِمٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ قَاطِعُ رَحِمٍ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جبیر بن مطعم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: قطع رحمی کرنے والا جنت میں داخل نہیں ہو گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 64]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب إثم القاطع: 5984 و مسلم: 2556 و أبوداؤد: 1696 و الترمذي: 1909»
قال الشيخ الألباني
صحیح
الحكم: صحیح
حدیث نمبر: 65 الادب المفرد
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ مُحَمَّدَ بْنَ كَعْبٍ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ يُحَدِّثُ، عَنْ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ‏:‏ ”إِنَّ الرَّحِمَ شُجْنَةٌ مِنَ الرَّحْمَنِ، تَقُولُ‏:‏ يَا رَبِّ، إِنِّي ظُلِمْتُ، يَا رَبِّ، إِنِّي قُطِعْتُ، يَا رَبِّ، إِنِّي إِنِّي، يَا رَبِّ، يَا رَبِّ‏.‏ فَيُجِيبُهَا‏:‏ أَلاَ تَرْضَيْنَ أَنْ أَقْطَعَ مَنْ قَطَعَكِ، وَأَصِلَ مَنْ وَصَلَكِ‏؟‏‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: بلاشبہ رحم (لفظ) رحمان سے لیا گیا ہے۔ وہ (قیامت کے روز) عرض کرے گا: اے میرے رب! مجھ پر ظلم کیا گیا، اے میرے رب! مجھے توڑا گیا، اے میرے رب! میں، میں، یعنی مجھ پر فلاں فلاں ظلم ہوئے، تو اللہ تعالیٰ اسے جواب دے گا: کیا تو اس سے راضی نہیں کہ میں اسے کاٹ دوں جس نے تجھے توڑا، اور اسے (اپنے ساتھ) ملاؤں جس نے تجھے جوڑا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 65]
تخریج الحدیث
«حسن: التعليق الرغيب: 226/3 و أخرجه أحمد فى المسند: 406/2، 455، صحيح موارد الظمآن: 1708»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
حدیث نمبر: 66 الادب المفرد
حَدَّثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ أَبَا هُرَيْرَةَ يَتَعَوَّذُ مِنْ إِمَارَةِ الصِّبْيَانِ وَالسُّفَهَاءِ‏.‏ فَقَالَ سَعِيدُ بْنُ سَمْعَانَ‏:‏ فَأَخْبَرَنِي ابْنُ حَسَنَةَ الْجُهَنِيُّ أَنَّهُ قَالَ لأَبِي هُرَيْرَةَ‏:‏ مَا آيَةُ ذَلِكَ‏؟‏ قَالَ‏:‏ أَنْ تُقْطَعَ الأَرْحَامُ، وَيُطَاعَ الْمُغْوِي، وَيُعْصَى الْمُرْشِدُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حضرت سعید بن سمعان سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سنا، وہ لڑکوں اور بیوقوفوں کے امیر بننے سے پناہ مانگتے تھے۔ اس کے بعد سعید بن سمعان نے کہا کہ ابن حسنہ جہنی نے بتایا کہ انہوں نے سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے عرض کیا: اس کی نشانی کیا ہے؟ انہوں نے فرمایا: اس کی نشانی یہ ہے کہ قطع رحمی ہو گی، گمراہ کرنے والے کی پیروی ہو گی، اور راست بازی کی طرف بلانے والے کی نافرمانی ہو گی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 66]
تخریج الحدیث
«صحيح: الصحيحة: 3191»
قال الشيخ الألباني
صحیح
الحكم: صحیح