بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
صلہ رحمی کے وجوب کا بیان
Al-Adab al-Mufrad
کتب الادب المفرد كتاب صلة الرحم صلہ رحمی کے وجوب کا بیان
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 2
حدیث نمبر: 47 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ قَالَ‏:‏ قَالَ جَدِّي‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلاَكَ الَّذِي يَلِي ذَاكَ، حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
کلیب بن منفعہ کا بیان ہے کہ ان کے دادا (بکر بن حارث انصاری) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے حسنِ سلوک کرو۔ اور ان کے علاوہ جو عزیز و اقارب ہیں ان سے حسنِ سلوک کرو۔ یہ حق واجب ہے اور رشتہ داری کو نبھانا اور صلہ رحمی کرنا لازم ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 47]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى بر الوالدين: 5140 و الطبراني فى الكبير: 310/22 و البخاري فى التاريخ الكبير: 230/7، الإرواء: 837، 2163»
قال الشيخ الألباني
ضعیف
الحكم: ضعیف
حدیث نمبر: 48 الادب المفرد
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ عُمَيْرٍ، عَنْ مُوسَى بْنِ طَلْحَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ‏:‏ لَمَّا نَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: ﴿‏‏وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الأَقْرَبِينَ﴾ [الشعراء: 214] قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَنَادَى‏:‏ ”يَا بَنِي كَعْبِ بْنِ لُؤَيٍّ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ‏.‏ يَا بَنِي عَبْدِ مَنَافٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ‏.‏ يَا بَنِي هَاشِمٍ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ‏.‏ يَا بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ، أَنْقِذُوا أَنْفُسَكُمْ مِنَ النَّارِ‏.‏ يَا فَاطِمَةُ بِنْتَ مُحَمَّدٍ، أَنْقِذِي نَفْسَكِ مِنَ النَّارِ، فَإِنِّي لاَ أَمْلِكُ لَكِ مِنَ اللهِ شَيْئًا، غَيْرَ أَنَّ لَكُمْ رَحِمًا سَأَبُلُّهُمَا بِبِلاَلِهَا‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب یہ آیت نازل ہوئی: «وَأَنْذِرْ عَشِيرَتَكَ الْأَقْرَبِينَ» [سورہ الشعراء: 214] اور آپ اپنے بہت قریبی رشتہ داروں کو ڈرائیں۔ تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم (نے قریش کو اکٹھا کیا اور) کھڑے ہوئے اور آواز دی: اے بنو کعب بن لؤی! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبد مناف! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو ہاشم! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے بنو عبدالمطلب! اپنے آپ کو آگ سے بچا لو، اے فاطمہ بنت محمد! اپنی جان کو آگ سے بچا لو۔ میں اللہ کی طرف سے تیرے لیے کسی چیز کا مالک نہیں سوائے اس کے کہ میرا تمہارے ساتھ رشتہ داری کا تعلق ہے، میں اس رحم کو تر کرتا رہوں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 48]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه الترمذي، تفسير القرآن، باب و من سورة الشعراء: 3185 و مسلم: 204 و النسائي: 3644، الصحيحة: 3177»
قال الشيخ الألباني
صحیح
الحكم: صحیح