حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ضَمْضَمُ بْنُ عَمْرٍو الْحَنَفِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا كُلَيْبُ بْنُ مَنْفَعَةَ قَالَ: قَالَ جَدِّي: يَا رَسُولَ اللهِ، مَنْ أَبَرُّ؟ قَالَ: ”أُمَّكَ وَأَبَاكَ، وَأُخْتَكَ وَأَخَاكَ، وَمَوْلاَكَ الَّذِي يَلِي ذَاكَ، حَقٌّ وَاجِبٌ، وَرَحِمٌ مَوْصُولَةٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
کلیب بن منفعہ کا بیان ہے کہ ان کے دادا (بکر بن حارث انصاری) نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں کس سے حسنِ سلوک کروں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی ماں سے، اپنے باپ سے، اپنی بہن سے اور اپنے بھائی سے حسنِ سلوک کرو۔ اور ان کے علاوہ جو عزیز و اقارب ہیں ان سے حسنِ سلوک کرو۔ یہ حق واجب ہے اور رشتہ داری کو نبھانا اور صلہ رحمی کرنا لازم ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ صِلَةِ الرَّحِمِ/حدیث: 47]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أبوداؤد، الأدب، باب فى بر الوالدين: 5140 و الطبراني فى الكبير: 310/22 و البخاري فى التاريخ الكبير: 230/7، الإرواء: 837، 2163»
الحكم: ضعیف