حَدَّثَنَا عُثْمَانُ الْمُؤَذِّنُ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ عُتَيِّ بْنِ ضَمْرَةَ قَالَ: رَأَيْتُ عِنْدَ أُبَيٍّ رَجُلاً تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ، فَأَعَضَّهُ أُبَيٌّ وَلَمْ يُكْنِهِ، فَنَظَرَ إِلَيْهِ أَصْحَابُهُ، قَالَ: كَأَنَّكُمْ أَنْكَرْتُمُوهُ؟ فَقَالَ: إِنِّي لاَ أَهَابُ فِي هَذَا أَحَدًا أَبَدًا، إِنِّي سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”مَنْ تَعَزَّى بِعَزَاءِ الْجَاهِلِيَّةِ فَأَعِضُّوهُ وَلا تَكْنُوهُ.“
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَاَرَكُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنِ الْحَسَنَ، عَنْ عُتَيٍّ، مِثْلَهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عتی بن ضمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے ہاں ایک آدمی کو دیکھا جو اپنے آپ کو جاہلیت کی طرف منسوب کر رہا تھا۔ سیدنا ابی رضی اللہ عنہ نے اسے اپنا آلہ تناسل کاٹ کھانے کو کہا اور کنایہ نہ کیا بلکہ واضح طور پر کہا۔ ان کے ساتھیوں نے حیرت سے ان کی طرف دیکھا۔ انہوں نے فرمایا: تم میری بات کو نا مناسب سمجھ رہے ہو؟ پھر فرمایا: میں اس معاملے میں کسی سے بھی نہیں ڈروں گا۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جو شخص جاہلیت کی طرف اپنی نسبت کرے تو اسے آلہ تناسل کاٹ کھانے کو کہو، اور کنایہ نہ کرو بلکہ واضح طور پر کہو۔“
ابن مبارک رحمہ اللہ کے واسطے سے بھی یہ روایت اسی طرح مروی ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 963]
تخریج الحدیث
«صحيح: مسند أحمد: 136/5»
الحكم: صحيح