بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 959 — اپنے بھائی کی ران پر ہاتھ مارنا جبکہ مقصد اذیت دینا نہ ہو
کتب الادب المفرد كتاب اپنے بھائی کی ران پر ہاتھ مارنا جبکہ مقصد اذیت دینا نہ ہو حدیث 959
حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا جَعْفَرٌ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَابِرٍ قَالَ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ جُنُبًا، يَصُبُّ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاَثَ حَفَنَاتٍ مِنْ مَاءٍ قَالَ الْحَسَنُ بْنُ مُحَمَّدٍ‏:‏ أَبَا عَبْدِ اللهِ، إِنَّ شَعْرِي أَكْثَرُ مِنْ ذَاكَ، قَالَ‏:‏ وَضَرَبَ بِيَدِهِ عَلَى فَخِذِ الْحَسَنِ فَقَالَ‏:‏ يَا ابْنَ أَخِي، كَانَ شَعْرُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِنْ شَعْرِكَ وَأَطْيَبَ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب جنبی ہوتے تو پانی کی تین لپیں اپنے سر پر ڈال لیتے۔ حسن بن محمد ابن حنفیہ رحمہ اللہ نے کہا: ابو عبداللہ! میرے بال اس سے بہت زیادہ ہیں (کہ تین لپ کفایت کریں)۔ راوی کہتے ہیں کہ سیدنا جابر رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ حسن رحمہ اللہ کی ران پر مار کر فرمایا: میرے بھتیجے! نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے بال تیرے بالوں سے زیادہ اور پاکیزہ تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 959]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح مسلم، الحيض، ح: 329»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (958) باب پر واپس اگلی حدیث (960) →