بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 952 — کیا کوئی دوسرے کے سر کی جوئیں نکال سکتا ہے
کتب الادب المفرد كتاب کیا کوئی دوسرے کے سر کی جوئیں نکال سکتا ہے حدیث 952
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ يُوسُفَ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ إِسْحَاقَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ، أَنَّهُ سَمِعَ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ‏:‏ كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَدْخُلُ عَلَى أُمِّ حَرَامِ ابْنَةِ مِلْحَانَ، فَتُطْعِمُهُ، وَكَانَتْ تَحْتَ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ، فَأَطْعَمَتْهُ وَجَعَلَتْ تَفْلِي رَأْسَهُ، فَنَامَ ثُمَّ اسْتَيْقَظَ يَضْحَكُ‏.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدہ ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا جو سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے نکاح میں تھیں، کے ہاں تشریف لے جاتے اور وہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانا کھلاتیں۔ ایک دفعہ انہوں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھانا کھلایا اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے سر سے جوئیں نکالنے لگیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سو گئے، پھر اٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہنس رہے تھے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 952]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح البخاري، الجهاد و السير، ح: 2789 و مسلم كتاب الإمارة: 1912، 160»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (951) باب پر واپس اگلی حدیث (953) →