حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ صَالِحٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ وَهْبٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو هَانِئٍ الْخَوْلاَنِيُّ، عَنْ أَبِي عَلِيٍّ الْجَنْبِيِّ، عَنْ فَضَالَةَ بْنِ عُبَيْدٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”ثَلاَثَةٌ لاَ يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ فَارَقَ الْجَمَاعَةَ وَعَصَى إِمَامَهُ فَمَاتَ عَاصِيًا، فَلاَ تَسْأَلْ عَنْهُ، وَأَمَةٌ أَوْ عَبْدٌ أَبِقَ مِنْ سَيِّدِهِ، وَامْرَأَةٌ غَابَ زَوْجُهَا، وَكَفَاهَا مَؤُونَةَ الدُّنْيَا فَتَبَرَّجَتْ وَتَمَرَّجَتْ بَعْدَهُ. وَثَلاَثَةٌ لاَ يُسْأَلُ عَنْهُمْ: رَجُلٌ نَازَعَ اللَّهَ رِدَاءَهُ، فَإِنَّ رِدَاءَهُ الْكِبْرِيَاءُ، وَإِزَارَهُ عِزَّهُ، وَرَجُلٌ شَكَّ فِي أَمْرِ اللهِ، وَالْقُنُوطُ مِنْ رَحْمَةِ اللهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا فضالہ بن عبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تین آدمیوں کے بارے میں تو بات ہی نہ کی جائے (کہ وہ کتنے بڑے مجرم ہیں)، ایک وہ شخص جس نے مسلمانوں کی جماعت سے علیحدگی اختیار کر لی اور اپنے امام کی نافرمانی کی اور اسی طرح نافرمان ہی مر گیا، اس کے بارے میں نہ پوچھا جائے (کہ اس کا کیا بنے گا)، اسی طرح وہ باندی یا غلام جو اپنے مالک سے بھاگ جائے، اور وہ عورت جس کا خاوند کہیں چلا جائے اور وہ اسے دنیاوی ضرورت کا خرچہ بھی دے جائے اور وہ اس کے بعد غیروں کے سامنے بنی سنوری رہے اور ان سے میل جول رکھے۔ مزید تین آدمی بھی ان کی ہلاکت کے بارے میں پوچھنے کی ضرورت نہیں، وہ آدمی جس نے اللہ تعالیٰ سے اس کی کبریائی کی چادر چھیننے کی کوشش کی اور اس کی ازار اس کی عزت ہے۔ اور جو آدمی اللہ تعالیٰ کے بارے میں شک کرے اور اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس ہو۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 590]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 23943 و الطبراني فى الكبير: 306/18 و ابن حبان: 4559 - انظر الصحيحة: 542»
الحكم: صحيح