حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ بَحْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ هَاشِمِ بْنِ الْبَرِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَالِحٌ بَيَّاعُ الأَكْسِيَةِ، عَنْ جَدَّتِهِ قَالَتْ: رَأَيْتُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اشْتَرَى تَمْرًا بِدِرْهَمٍ، فَحَمَلَهُ فِي مِلْحَفَتِهِ، فَقُلْتُ لَهُ، أَوْ قَالَ لَهُ رَجُلٌ: أَحْمِلُ عَنْكَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ؟ قَالَ: لاَ، أَبُو الْعِيَالِ أَحَقُّ أَنْ يَحْمِلَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
صالح رحمہ اللہ جو کہ کپڑا فروش تھے، سے روایت ہے کہ میری دادی نے کہا: میں نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ انہوں نے ایک درہم کی کھجوریں خریدیں اور ان کو اپنی تھیلی میں ڈال کر اٹھا لیا۔ میں نے یا کسی آدمی نے ان سے عرض کیا: امیر المومنین! آپ کی طرف سے میں اٹھا لیتا ہوں۔ انہوں نے فرمایا: نہیں، بچوں کا باپ ہی ان کو اٹھانے کا زیادہ حقدار ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 551]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أخرجه أحمد فى الزهد: 709 و ابن أبى الدنيا فى التواضع: 102 - الضعيفة: 89»
الحكم: ضعيف