حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بِشْرٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَبِيصَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ رَبَاحٍ، عَنْ أَبِي عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ: لَقِيَنِي رَجُلٌ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخَذَ بِمَنْكِبِي مِنْ وَرَائِي، قَالَ: أَمَا إِنِّي أُحِبُّكَ، قَالَ: أَحَبَّكَ الَّذِي أَحْبَبْتَنِي لَهُ، فَقَالَ: لَوْلاَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”إِذَا أَحَبَّ الرَّجُلُ الرَّجُلَ فَلْيُخْبِرْهُ أَنَّهُ أَحَبَّهُ“، مَا أَخْبَرْتُكَ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ يَعْرِضُ عَلَيَّ الْخِطْبَةَ قَالَ: أَمَا إِنَّ عِنْدَنَا جَارِيَةً، أَمَا إِنَّهَا عَوْرَاءُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک صاحب مجھے ملے تو انہوں نے پیچھے سے میرے کندھے کو پکڑا اور کہا: میں تم سے محبت کرتا ہوں۔ میں نے کہا: وہ ذات باری تجھ سے محبت کرے جس کی رضا کے لیے آپ نے مجھ سے محبت کی ہے۔ انہوں نے کہا: اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے یہ نہ فرمایا ہوتا: ”جب کوئی آدمی کسی سے محبت کرے تو اسے بتا دے کہ وہ اس سے محبت کرتا ہے۔“ تو میں تمہیں ہرگز نہ بتاتا۔ مجاہد نے بتایا کہ پھر انہوں نے مجھے نکاح کی پیش کش کی اور کہا کہ ہمارے پاس ایک باندی ہے، تم اس سے نکاح کر لو، اس کا کوئی بھائی بہن نہیں ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 543]
تخریج الحدیث
«حسن صحيح: الصحيحة: 418»
قال الشيخ الألباني
حسن صحيح
الحكم: حسن صحيح