حَدَّثَنَا صَدَقَةُ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ، عَنْ أُمِّ الدَّرْدَاءِ، عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”أَلاَ أُنَبِّئُكُمْ بِدَرَجَةٍ أَفْضَلَ مِنَ الصَّلاَةِ وَالصِّيَامِ وَالصَّدَقَةِ؟“ قَالُوا: بَلَى، قَالَ: ”صَلاَحُ ذَاتِ الْبَيْنِ، وَفَسَادُ ذَاتِ الْبَيْنِ هِيَ الْحَالِقَةُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو درداء رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے بیان کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کیا میں تمہیں نماز، روزہ اور صدقہ سے بلند درجہ عمل کے متعلق نہ بتاؤں؟“ صحابہ نے عرض کیا: کیوں نہیں (ضرور بتائیں)۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”آپس کے بگاڑ کی اصلاح کرنا۔ اور آپس میں بگاڑ پیدا کرنے کی عادت تو (دین کو) مونڈ کر رکھ دیتی ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 391]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى إصلاح ذات البين: 4919 و الترمذي: 2509 - انظر المشكاة: 5038»
الحكم: صحيح