حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ قَالَ: حَدَّثَنِي يُونُسُ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي حُمَيْدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، أَنَّ أُمَّهَ أُمَّ كُلْثُومِ ابْنَةَ عُقْبَةَ بْنِ أَبِي مُعَيْطٍ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّهَا سَمِعَتْ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”لَيْسَ الْكَذَّابُ الَّذِي يُصْلِحُ بَيْنَ النَّاسِ، فَيَقُولُ خَيْرًا، أَوْ يَنْمِي خَيْرًا“، قَالَتْ: وَلَمْ أَسْمَعْهُ يُرَخِّصُ فِي شَيْءٍ مِمَّا يَقُولُ النَّاسُ مِنَ الْكَذِبِ إِلاَّ فِي ثَلاَثٍ: الإِصْلاَحِ بَيْنَ النَّاسِ، وَحَدِيثِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ، وَحَدِيثِ الْمَرْأَةِ زَوْجَهَا.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدہ ام کلثوم بنت عقبہ بن ابی معیط رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: ”وہ شخص جھوٹا نہیں ہے جو لوگوں کے درمیان صلح کرواتا ہے، تو وہ اچھی بات کرتا ہے یا اچھی بات پھیلاتا ہے۔“ وہ فرماتی ہیں: میں نے تین مواقع کے علاوہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے جھوٹ بولنے کی اجازت نہیں سنی: لوگوں کے درمیان صلح کرانے کے لیے، خاوند کا بیوی کے ساتھ، اور بیوی کا خاوند سے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 385]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الصلح، باب ليس الكاذب الذى يصلح بين الناس: 2692 و مسلم: 2605 و أبوداؤد: 4921 و الترمذي: 1938 - انظر الصحيحة: 545»
الحكم: صحيح