حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُقْبَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ الْقُرَشِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرِيزٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ زَيْدٍ الشَّرْعَبِيُّ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ”ارْحَمُوا تُرْحَمُوا، وَاغْفِرُوا يَغْفِرُ اللَّهُ لَكُمْ، وَيْلٌ لأَقْمَاعِ الْقَوْلِ، وَيْلٌ لِلْمُصِرِّينَ الَّذِينَ يُصِرُّونَ عَلَى مَا فَعَلُوا وَهُمْ يَعْلَمُونَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”رحم کرو، تم پر رحم کیا جائے گا، لوگوں سے درگزر کرو، اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے گا۔ ایک کان سے سن کر دوسرے سے نکال دینے والوں کے لیے ہلاکت ہے، اصرار کرنے والوں کے لیے ہلاکت ہے جو جانتے بوجھتے اپنے گناہوں پر اصرار کرتے ہیں۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ رَحْمَةِ/حدیث: 380]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أحمد: 6541 و عبد بن حميد: 320 و الطبراني فى مسند الشامين: 1055 و البيهقي فى شعب الإيمان: 11052 - انظر الصحيحة: 482»
الحكم: صحيح