حَدَّثَنَا مُحَمَّدٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُوسَى، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ، قَالَ: أَخْبَرَنَا دَاوُدُ، عَنْ عَامِرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو جَبِيرَةَ بْنُ الضَّحَّاكِ قَالَ: فِينَا نَزَلَتْ، فِي بَنِي سَلِمَةَ: ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالأَلْقَابِ﴾ [الحجرات: 11] ، قَالَ: قَدِمَ عَلَيْنَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَيْسَ مِنَّا رَجُلٌ إِلاَّ لَهُ اسْمَانِ، فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ”يَا فُلاَنُ“، فَيَقُولُونَ: يَا رَسُولَ اللهِ، إِنَّهُ يَغْضَبُ مِنْهُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ابو جیرہ بن ضحاک سے روایت ہے کہ قرآن مجید کی آیت « ﴿وَلَا تَنَابَزُوا بِالْأَلْقَابِ﴾ » [الحجرات: 11] ”ایک دوسرے کو برے القاب سے نہ پکارو۔“ ہمارے، یعنی بنو سلمہ کے بارے میں نازل ہوئی۔ وہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے تو ہمارے ہر آدمی کے دو نام تھے۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب کسی کو بلاتے: ”اے فلاں۔“ تو وہ کہتے: اللہ کے رسول! وہ اس نام سے غصہ کرتا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 330]
تخریج الحدیث
«صحيح: سنن أبى داؤد، الأدب، حديث: 4962 - جامع الترمذي، ح: 3268 و ابن ماجه: 3741 - الصحيحة: 809»
الحكم: صحيح