حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا حَمَّادٌ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَحْسَنَ النَّاسِ، وَأَجْوَدَ النَّاسِ، وَأَشْجَعَ النَّاسِ، وَلَقَدْ فَزِعَ أَهْلُ الْمَدِينَةِ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَانْطَلَقَ النَّاسُ قِبَلَ الصَّوْتِ، فَاسْتَقْبَلَهُمُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ سَبَقَ النَّاسَ إِلَى الصَّوْتِ وَهُوَ يَقُولُ: ”لَنْ تُرَاعُوا، لَنْ تُرَاعُوا“، وَهُوَ عَلَى فَرَسٍ لأَبِي طَلْحَةَ عُرْيٍ، مَا عَلَيْهِ سَرْجٌ، وَفِي عُنُقِهِ السَّيْفُ، فَقَالَ: ”لَقَدْ وَجَدْتُهُ بَحْرًا، أَوْ إِنَّهُ لَبَحْرٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سب لوگوں سے زیادہ خوبصورت، سب لوگوں سے زیادہ سخی اور بہادر تھے۔ ایک رات اہل مدینہ خوفزدہ ہوئے تو لوگ آواز کی جانب چلے تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو سامنے سے آتا دیکھا، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں سے پہلے اکیلے ہی اس جانب چلے گئے جس طرف سے آواز آئی تھی، آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرما رہے تھے: ”ڈرنے کی کوئی بات نہیں، خوفزدہ مت ہو۔“ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کے گھوڑے پر بغیر زین کے سوار تھے اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے گلے میں تلوار تھی۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اس گھوڑے کو سمندر (کی طرح تیز رفتار) پایا ہے۔“ یا ”وہ تو یقیناً سمندر ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 303]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الأدب، باب حسن الخلق و السخاء ............: 6033 و مسلم: 2307 و الترمذي: 1687 و ابن ماجه: 2772»
الحكم: صحيح