حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ شَقِيقٍ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”حُوسِبَ رَجُلٌ مِمَّنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَلَمْ يُوجَدْ لَهُ مِنَ الْخَيْرِ إِلاَّ أَنَّهُ كَانَ رَجُلاً يُخَالِطُ النَّاسَ وَكَانَ مُوسِرًا، فَكَانَ يَأْمُرُ غِلْمَانَهُ أَنْ يَتَجَاوَزُوا عَنِ الْمُعْسِرِ، قَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: فَنَحْنُ أَحَقُّ بِذَلِكَ مِنْهُ، فَتَجَاوَزَ عَنْهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”تم سے پہلے والے لوگوں میں سے ایک آدمی کا حساب لیا گیا تو اس کے نامہ اعمال میں اس کے سوا کوئی نیکی نہیں تھی کہ وہ لوگوں سے میل جول رکھتا تھا اور خوشحال تھا، چنانچہ وہ اپنے نوکروں چاکروں کو حکم دیتا کہ تنگ دست سے تجاوز کرو۔ اللہ عزوجل نے فرمایا: ہم اس کی نسبت اس (عفو و درگزر) کے زیادہ حق دار ہیں، اس لیے اس نے اسے معاف کر دیا۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 293]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب المساقاة: 30، 1561 و الترمذي: 1307»
الحكم: صحيح