حَدَّثَنَا أَبُو النُّعْمَانِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلاَقَةَ، عَنْ أُسَامَةَ بْنِ شَرِيكٍ قَالَ: كُنْتُ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ الأَعْرَابُ، نَاسٌ كَثِيرٌ مِنْ هَاهُنَا وَهَاهُنَا، فَسَكَتَ النَّاسُ لاَ يَتَكَلَّمُونَ غَيْرَهُمْ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَعَلَيْنَا حَرَجٌ فِي كَذَا وَكَذَا؟ فِي أَشْيَاءَ مِنْ أُمُورِ النَّاسِ، لاَ بَأْسَ بِهَا، فَقَالَ: ”يَا عِبَادَ اللهِ، وَضَعَ اللَّهُ الْحَرَجَ، إِلاَّ امْرَءًا اقْتَرَضَ امْرَءًا ظُلْمًا فَذَاكَ الَّذِي حَرِجَ وَهَلَكَ“، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، أَنَتَدَاوَى؟ قَالَ: ”نَعَمْ يَا عِبَادَ اللهِ تَدَاوَوْا، فَإِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ لَمْ يَضَعْ دَاءً إِلاَّ وَضَعَ لَهُ شِفَاءً، غَيْرَ دَاءٍ وَاحِدٍ“، قَالُوا: وَمَا هِيَ يَا رَسُولَ اللهِ؟ قَالَ: ”الْهَرَمُ“، قَالُوا: يَا رَسُولَ اللهِ، مَا خَيْرُ مَا أُعْطِيَ الإِنْسَانُ؟ قَالَ: ”خُلُقٌ حَسَنٌ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا اسامہ بن شریک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس (حج کے موقعہ پر) موجود تھا اور دیہاتی آئے۔ بہت سارے لوگ اس طرف سے اور بہت سے اس طرف سے۔ لوگ خاموش ہو گئے اور ان کے علاوہ کوئی بات نہیں کر رہا تھا۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کیا فلاں فلاں کام کرنے میں کوئی گناہ ہے؟ انہوں نے لوگوں کے بہت سے ایسے امور کا ذکر کیا جن کے کرنے میں کوئی حرج نہیں تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے حرج اور تنگی دور کر دی ہے۔ البتہ جس نے ظلماً کسی کا گوشت کھایا تو وہ حرج میں رہا اور ہلاک ہوا۔“ انہوں نے دریافت کیا: اے اللہ کے رسول! کیا ہم دوا استعمال کر سکتے ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اے اللہ کے بندو! علاج معالجہ کراؤ، بلاشبہ اللہ عزوجل نے جو بیماری نازل کی ہے اس کی دوا بھی اتاری ہے، سوائے ایک بیماری کے۔“ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ کون سی بیماری ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”بڑھاپا۔“ انہوں نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! انسان کو سب سے بہتر اور اچھی چیز کون سی عطا کی گئی ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا اخلاق۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 291]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الطب، باب الرجل يتداوي: 3855، 2015 و الترمذي: 2038 و ابن ماجة: 3436 - انظر التعليقات الحسان: 470/1»
الحكم: صحيح