بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 246 — لوگوں کے ساتھ ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آنا
کتب الادب المفرد كتاب الانبساط إلى الناس لوگوں کے ساتھ ہنس مکھ چہرے کے ساتھ پیش آنا حدیث 246
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا هِلاَلُ بْنُ عَلِيٍّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ قَالَ‏:‏ لَقِيتُ عَبْدَ اللهِ بْنَ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ فَقُلْتُ‏:‏ أَخْبِرْنِي عَنْ صِفَةِ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي التَّوْرَاةِ، قَالَ‏:‏ فَقَالَ‏:‏ أَجَلْ وَاللَّهِ، إِنَّهُ لَمَوْصُوفٌ فِي التَّوْرَاةِ بِبَعْضِ صِفَتِهِ فِي الْقُرْآنِ‏:‏ ‏ ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ ‏ [الأحزاب: 45] ، وَحِرْزًا لِلأُمِّيِّينَ، أَنْتَ عَبْدِي وَرَسُولِي، سَمَّيْتُكَ الْمُتَوَكِّلَ، لَيْسَ بِفَظٍّ وَلاَ غَلِيظٍ، وَلاَ صَخَّابٍ فِي الأَسْوَاقِ، وَلاَ يَدْفَعُ بِالسَّيِّئَةِ السَّيِّئَةَ، وَلَكِنْ يَعْفُو وَيَغْفِرُ، وَلَنْ يَقْبِضَهُ اللَّهُ تَعَالَى حَتَّى يُقِيمَ بِهِ الْمِلَّةَ الْعَوْجَاءَ، بِأَنْ يَقُولُوا‏:‏ لاَ إِلَهَ إِلاَّ اللَّهُ، وَيَفْتَحُوا بِهَا أَعْيُنًا عُمْيًا، وَآذَانًا صُمًّا، وَقُلُوبًا غُلْفًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
عطاء بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہما سے ملا تو ان سے عرض کیا کہ مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ان صفات کے متعلق بتایئے جو تورات میں مذکور ہیں۔ انہوں نے کہا: ضرور! اللہ کی قسم آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی تورات میں کئی صفات ایسی ہیں جو قرآن میں بھی بعینہ مذکور ہیں (جیسے قرآن میں ہے): « ﴿يَا أَيُّهَا النَّبِيُّ إِنَّا أَرْسَلْنَاكَ شَاهِدًا وَمُبَشِّرًا وَنَذِيرًا﴾ » [الأحزاب: 45] اے نبی! ہم نے آپ کو گواہی دینے والا، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ اور ان پڑھوں کو (گمراہی سے) بچانے والا بنا کر بھیجا ہے۔ تم میرے بندے اور رسول ہو، میں نے تمہارا نام متوکل رکھا ہے۔ آپ سخت گو، تند مزاج اور بازاروں میں شور مچانے والے نہیں ہیں۔ اور برائی کا بدلہ برائی سے نہیں دیتے بلکہ عفو و درگزر کرنے والے ہیں۔ اور اللہ تعالیٰ آپ کو اس وقت تک فوت نہیں کرے گا جب تک آپ کے ذریعے ٹیڑھی ملت کو سیدھا نہ کر دے، اس طرح کہ وہ لوگ لا الہ الا اللہ کا اقرار کر لیں۔ اور لوگ اس کے ذریعے سے اندھی آنکھیں، بہرے کان اور بند دل نہ کھول لیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 246]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب البيوع، باب كراهية السخب فى السوق: 2125، 4838 - المشكاة: 5752»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (245) باب پر واپس اگلی حدیث (247) →