حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ كَثِيرٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ الأَعْمَشِ، عَنْ أَبِي عَمْرٍو الشَّيْبَانِيِّ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: إِنِّي أُبْدِعَ بِي فَاحْمِلْنِي، قَالَ: ”لَا أَجِدُ، وَلَكِنِ ائْتِ فُلاَنًا، فَلَعَلَّهُ أَنْ يَحْمِلَكَ“، فَأَتَاهُ فَحَمَلَهُ، فَأَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ: ”مَنْ دَلَّ عَلَى خَيْرٍ فَلَهُ مِثْلُ أَجْرِ فَاعِلِهِ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو مسعود انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ خلاف عادت میری سواری چلنے سے عاجز آ گئی ہے، لہٰذا آپ مجھے کوئی سواری دے دیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”میرے پاس سواری نہیں ہے، لیکن تم فلاں آدمی کے پاس جاؤ شاید وہ تمہیں سواری دے دے۔“ چنانچہ وہ اس کے پاس گیا تو اس نے اسے سواری دے دی۔ اس نے آ کر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو اطلاع دی تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس نے کسی خیر کے کام پر راہنمائی کی اس کے لیے بھی عمل کرنے والے کے برابر اجر ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ الِانْبِسَاطِ إِلَى النَّاسِ/حدیث: 242]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، الإمارة، باب فضل إعانة الغازي فى سبيل الله ..........: 1893 و أبوداؤد: 5129 و الترمذي: 267 - الصحيحة: 1660»
الحكم: صحيح