حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُفَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ غَزِيَّةَ، عَنْ شُرَحْبِيلَ مَوْلَى الأَنْصَارِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللهِ الأَنْصَارِيِّ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”مَنْ صُنِعَ إِلَيْهِ مَعْرُوفٌ فَلْيُجْزِئْهُ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ مَا يُجْزِئُهُ فَلْيُثْنِ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ إِذَا أَثْنَى فَقَدْ شَكَرَهُ، وَإِنْ كَتَمَهُ فَقَدْ كَفَرَهُ، وَمَنْ تَحَلَّى بِمَا لَمْ يُعْطَ، فَكَأَنَّمَا لَبِسَ ثَوْبَيْ زُورٍ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جس کے ساتھ کوئی احسان کیا جائے اسے چاہیے کہ اس کا بدلہ دے۔ اگر بدلہ دینے کے لیے اس کے پاس کوئی چیز نہ ہو تو احسان کرنے والے کی تعریف میں اچھے کلمات ہی کہہ دے، چنانچہ جس نے اچھے کلمات کہہ دیے اس نے اس کا شکریہ ادا کر دیا، اور اگر اس نے اس احسان کو چھپایا تو اس نے اس کی ناشکری کی۔ اور جس نے اپنے لیے کوئی ایسی صفت ظاہر کی جو اس میں نہ ہو تو اس نے جھوٹ کے دو کپڑے پہن لیے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 215]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى شكر المعروف: 4813 و الترمذي: 2034 - صحيح الترغيب: 968 و الصحيحة: 617»
الحكم: صحيح