حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو مَسْلَمَةَ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ، عَنْ مُطَرِّفٍ قَالَ: قَالَ أَبِي: انْطَلَقْتُ فِي وَفْدِ بَنِي عَامِرٍ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: أَنْتَ سَيِّدُنَا، قَالَ: ”السَّيِّدُ اللَّهُ“، قَالُوا: وَأَفْضَلُنَا فَضْلاً، وَأَعْظَمُنَا طَوْلاً، قَالَ: فَقَالَ: ”قُولُوا بِقَوْلِكُمْ، وَلاَ يَسْتَجْرِيَنَّكُمُ الشَّيْطَانُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
مطرف اپنے والد (عبداللہ بن شخیر) سے بیان کرتے ہیں کہ انہوں نے کہا: میں بنو عامر کے ایک وفد کے ہمراہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کہا: آپ ہمارے سید ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”سید تو اللہ ہے۔“ انہوں نے کہا: آپ ہم سے زیادہ فضیلت اور عزت و شرف والے ہیں۔ راوی کہتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی بات کرو اور شیطان تمہیں اپنا وکیل نہ بنائے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 211]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه أبوداؤد، كتاب الأدب، باب فى كراهية التمادح: 4806 و أحمد: 16307 و النسائي فى الكبرىٰ: 1004»
الحكم: صحيح