حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَزِيدَ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، عَنْ أُمِّهِ، عَنْ سَهْلِ بْنِ الْحَنْظَلِيَّةِ، وَكَانَ لاَ يُولَدُ لَهُ، فَقَالَ: لأَنْ يُولَدَ لِي فِي الإِسْلاَمِ وَلَدٌ سَقْطٌ فَأَحْتَسِبَهُ، أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ يكُونَ لِيَ الدُّنْيَا جَمِيعًا وَمَا فِيهَا وَكَانَ ابْنُ الْحَنْظَلِيَّةِ مِمَّنْ بَايَعَ تَحْتَ الشَّجَرَةِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سہل بن الحنظلیہ سے مروی ہے، اور ان کے ہاں اولاد نہیں ہوتی تھی، انہوں نے کہا: اگر زمانہ اسلام میں میرا ایک ادھورا بچہ بھی پیدا ہو جائے اور میں اللہ کے ہاں اس کے ثواب کا یقین و امید کر لوں تو یہ مجھے ساری دنیا اور جو کچھ اس میں ہے اس سے زیادہ محبوب ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 152]
تخریج الحدیث
«ضعيف: رواه أبونعيم فى معرفة الصحابة: 2818/5 و ابن منده كما فى الإصابة لابن حجر: 504/6 و ابن عساكر فى تاريخه: 276/70»
الحكم: ضعيف