نَجِيحٍ أَبُو عُمَارَةَ قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ يَقُولُ: لَقَدْ عَهِدْتُ الْمُسْلِمِينَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ مِنْهُمْ لَيُصْبِحُ فَيَقُولُ: يَا أَهْلِيَهْ، يَا أَهْلِيَهْ، يَتِيمَكُمْ يَتِيمَكُمْ، يَا أَهْلِيَهْ، يَا أَهْلِيَهْ، مِسْكِينَكُمْ مِسْكِينَكُمْ، يَا أَهْلِيَهْ، يَا أَهْلِيَهْ، جَارَكُمْ جَارَكُمْ، وَأُسْرِعَ بِخِيَارِكُمْ وَأَنْتُمْ كُلَّ يَوْمٍ تَرْذُلُونَ. وَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: وَإِذَا شِئْتَ رَأَيْتَهُ فَاسِقًا يَتَعَمَّقُ بِثَلاَثِينَ أَلْفًا إِلَى النَّارِ مَا لَهُ قَاتَلَهُ اللَّهُ؟ بَاعَ خَلاَقَهُ مِنَ اللهِ بِثَمَنِ عَنْزٍ، وَإِنْ شِئْتَ رَأَيْتَهُ مُضَيِّعًا مُرْبَدًّا فِي سَبِيلِ الشَّيْطَانِ، لاَ وَاعِظَ لَهُ مِنْ نَفْسِهِ وَلاَ مِنَ النَّاسِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
حسن بصری رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ میں نے مسلمانوں کا وہ دور بھی پایا ہے کہ آدمی صبح اٹھتے ہی کہتا تھا: اے گھر والو! اے اہل خانہ! اپنے یتیم کا خیال رکھنا اور اس کی خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھنا، اے گھر والو! اپنے مسکین کا خیال رکھو، اور اے گھر والو! اے اہل خانہ! اپنے پڑوسی کی خبر لو، اور اس کا خیال کرو۔ تمہارے اچھے لوگ جلدی جا رہے ہیں، اور تم ہر روز دینی طور پر پست ہوتے جا رہے ہو۔ (راوی کہتا ہے) اور میں نے انہیں یہ فرماتے ہوئے بھی سنا: اور آج اگر تو کسی فاسق کو دیکھنا چاہے تو دیکھ سکتا ہے جو تیس ہزار (گناہوں میں) خرچ کر کے جہنم کی طرف جا رہا ہے۔ اس شخص کو کیا ہے؟ اللہ اسے غارت کرے اس نے اپنا حصہ جو اللہ سے (ثواب کی صورت میں) مل سکتا تھا ایک بکری کی قیمت (معمولی قیمت) کے بدلے بیچ دیا (یعنی اتنا زیادہ معمولی لذت نفس میں اڑا دیا)، اور اگر تو کسی ایسے شخص کو دیکھنا چاہے جس نے اپنا کھلیان (یعنی ساری دولت) شیطان کی راہ میں خرچ کر کے ضائع کر دی تو ایسا شخص بھی دیکھا جا سکتا ہے، نہ اس کا ضمیر اسے ملامت کرتا ہے اور نہ لوگوں میں سے کوئی اسے صحیح راہ پر لانے والا ہے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْكَرَمِ وَ يَتِيمٌ/حدیث: 139]
تخریج الحدیث
«ضعيف:»
الحكم: ضعيف