حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: ”مَعَكَ تَمَرَاتٌ؟“ قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَلاَكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، وَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَتَلَمَّظَ الصَّبِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”حُبَّ الأَنْصَارِ التَّمْرَ“، وَسَمَّاهُ: عَبْدَ اللهِ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ کو اس کی پیدائش کے روز نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس لے گیا جبکہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اس وقت چغہ پہنے اپنے ایک اونٹ کو قطران مل رہے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا: ”تیرے پاس کھجوریں ہیں؟“ میں نے عرض کیا: جی ہاں! میں نے آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو کھجوریں پکڑا دیں تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان کو چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیں۔ بچے نے منہ چلانا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”کھجور انصار کو پسند ہے۔“ اور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْخِتَانِ/حدیث: 1254]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب الأدب: 2144 و أبوداؤد: 4951 و هو فى صحيح المصنف نحوه: 5470»
الحكم: صحيح