بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1247 — ختنہ کے موقع پر کھیل کود
کتب الادب المفرد كتاب الختان ختنہ کے موقع پر کھیل کود حدیث 1247
حدیث نمبر: 1247 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا أَصْبَغُ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي ابْنُ وَهْبٍ قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، أَنَّ بُكَيْرًا حَدَّثَهُ، أَنَّ أُمَّ عَلْقَمَةَ أَخْبَرَتْهُ، أَنَّ بَنَاتَ أَخِي عَائِشَةَ اخْتُتِنَّ، فَقِيلَ لِعَائِشَةَ‏:‏ أَلاَ نَدْعُو لَهُنَّ مَنْ يُلْهِيهِنَّ‏؟‏ قَالَتْ‏:‏ بَلَى‏.‏ فَأَرْسَلْتُ إِلَى عَدِيٍّ فَأَتَاهُنَّ، فَمَرَّتْ عَائِشَةُ فِي الْبَيْتِ فَرَأَتْهُ يَتَغَنَّى وَيُحَرِّكُ رَأْسَهُ طَرَبًا، وَكَانَ ذَا شَعْرٍ كَثِيرٍ، فَقَالَتْ‏:‏ أُفٍّ، شَيْطَانٌ، أَخْرِجُوهُ، أَخْرِجُوهُ‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
ام علقمہ رحمہا اللہ سے روایت ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کی بھتیجیوں کے ختنے کیے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے عرض کی گئی: کیا ہم ان کو بہلانے کے لیے کسی شخص کو نہ بلائیں؟ انہوں نے کہا: ٹھیک ہے۔ چنانچہ اس نے عدی کی طرف پیغام بھیجا تو وہ آیا، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا گھر سے گزریں تو دیکھا کہ وہ گا رہا ہے اور جھوم رہا ہے۔ وہ بہت بالوں والا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اف! اس شیطان کو نکالو، نکالو اسے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْخِتَانِ/حدیث: 1247]
تخریج الحدیث
«حسن: أخرجه البيهقي فى الكبرىٰ: 223/10 - أنظر الصحيحة: 722»
قال الشيخ الألباني
حسن
الحكم: حسن
← پچھلی حدیث (1246) باب پر واپس اگلی حدیث (1248) →