حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلاَمٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدَةُ، عَنْ عُبَيْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ”إِذَا أَوَى أَحَدُكُمْ إِلَى فِرَاشِهِ، فَلْيَحِلَّ دَاخِلَةَ إِزَارِهِ، فَلْيَنْفُضْ بِهَا فِرَاشَهُ، فَإِنَّهُ لاَ يَدْرِي مَا خَلَّفَ فِي فِرَاشِهِ، وَلْيَضْطَجِعْ عَلَى شِقِّهِ الأَيْمَنِ، وَلْيَقُلْ: بِاسْمِكَ وَضَعْتُ جَنْبِي، فَإِنِ احْتَبَسَتْ نَفْسِي فَارْحَمْهَا، وَإِنْ أَرْسَلْتَهَا فَاحْفَظْهَا بِمَا تَحْفَظُ بِهِ الصَّالِحِينَ“، أَوْ قَالَ: ”عِبَادَكَ الصَّالِحِينَ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم میں سے کوئی بستر پر لیٹنے لگے تو اپنے ازار بند کا پلو کھول کر اس سے بستر کو جھاڑ لے، کیونکہ اسے معلوم نہیں اس کے بعد بستر پر کیا چیز آئی۔ اور چاہیے کہ وہ دائیں پہلو پر لیٹ کر یہ دعا پڑھے: تیرے نام کے ساتھ میں نے اپنا پہلو رکھا، لہٰذا اگر تو میری جان کو قبض کر لے تو اس پر رحم فرمانا، اور اگر تو اس کو چھوڑ دے تو اس کی اسی طرح حفاظت فرمانا جیسے تو اپنے نیکوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“ یا کہا: ”جیسے تو اپنے نیک بندوں کی حفاظت فرماتا ہے۔“ [الادب المفرد/كِتَابُ/حدیث: 1210]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الدعوات: 6320 و مسلم: 2714 و أبوداؤد: 5050 و الترمذي: 3401 و النسائي فى الكبرىٰ: 10559 و ابن ماجه: 3875»
الحكم: صحيح