بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1166 — جب لوگوں کو دیکھے کہ وہ خفیہ بات کر رہے ہیں تو ان کے پاس نہ جائے
کتب الادب المفرد كتاب جب لوگوں کو دیکھے کہ وہ خفیہ بات کر رہے ہیں تو ان کے پاس نہ جائے حدیث 1166
حدیث نمبر: 1166 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللهِ، قَالَ‏:‏ أَخْبَرَنَا دَاوُدُ بْنُ قَيْسٍ قَالَ‏:‏ سَمِعْتُ سَعِيدًا الْمَقْبُرِيَّ يَقُولُ‏:‏ مَرَرْتُ عَلَى ابْنِ عُمَرَ، وَمَعَهُ رَجُلٌ يَتَحَدَّثُ، فَقُمْتُ إِلَيْهِمَا، فَلَطَمَ فِي صَدْرِي فَقَالَ‏:‏ إِذَا وَجَدْتَ اثْنَيْنِ يَتَحَدَّثَانِ فَلاَ تَقُمُّ مَعَهُمَا، وَلاَ تَجْلِسْ مَعَهُمَا، حَتَّى تَسْتَأْذِنَهُمَا، فَقُلْتُ‏:‏ أَصْلَحَكَ اللَّهُ يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، إِنَّمَا رَجَوْتُ أَنْ أَسْمَعَ مِنْكُمَا خَيْرًا‏.‏
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سعید مقبری رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس سے گزرا تو وہ ایک آدمی کے ساتھ کھڑے باتیں کر رہے تھے۔ میں بھی ان کے پاس کھڑا ہوگیا تو انہوں نے میرے سینے پر تھپڑ مارا اور فرمایا: جب تم دیکھو کہ دو آدمی باتیں کر رہے ہیں، تو ان سے اجازت لیے بغیر ان کے پاس مت کھڑے ہو، اور نہ ان کے پاس بیٹھو۔ میں نے کہا: ابو عبدالرحمٰن! اللہ آپ کا بھلا کرے، میں تو اس امید سے کھڑا ہوا تھا کہ آپ سے کوئی اچھی بات سنوں گا۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1166]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه ابن أبى شيبة: 25565 و أحمد: 5949»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1165) باب پر واپس اگلی حدیث (1167) →