بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1157 — کیا کسی سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟
کتب الادب المفرد كتاب کیا کسی سے پوچھا جا سکتا ہے کہ کہاں سے آرہے ہو؟ حدیث 1157
حدیث نمبر: 1157 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا حَامِدُ بْنُ عُمَرَ، عَنْ حَمَّادِ بْنِ زَيْدٍ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ قَالَ‏:‏ كَانَ يَكْرَهُ أَنْ يُحِدَّ الرَّجُلُ النَّظَرَ إِلَى أَخِيهِ، أَوْ يُتْبِعَهُ بَصَرَهُ إِذَا قَامَ مِنْ عِنْدِهِ، أَوْ يَسْأَلَهُ‏:‏ مِنْ أَيْنَ جِئْتَ، وَأَيْنَ تَذْهَبُ‏؟
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
مجاہد رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ وہ تیز نظروں سے مسلمان بھائی کی طرف دیکھنا ناپسند کرتے تھے۔ اسی طرح جب وہ اٹھ کر جانے لگے تو پیچھے سے اسے دیکھتے رہنا (کہ کدھر جاتا ہے) بھی ناپسند کرتے تھے، نیز یہ پوچھنا بھی ناپسند کرتے تھے کہ کدھر سے آئے ہو اور کہاں جا رہے ہو۔ [الادب المفرد/كِتَابٌ/حدیث: 1157]
تخریج الحدیث
«ضعيف: أنظر الحديث: 771، اس كي سند ميں ليث بن ابي سليم راوي ضعيف هے.»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1156) باب پر واپس اگلی حدیث (1158) →