بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1151 — کنویں میں پاؤں لٹکا کر اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر بیٹھنا
کتب الادب المفرد كتاب المجالس کنویں میں پاؤں لٹکا کر اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر بیٹھنا حدیث 1151
حدیث نمبر: 1151 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللهِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي مُوسَى الأَشْعَرِيِّ قَالَ‏:‏ خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا إِلَى حَائِطٍ مِنْ حَوَائِطِ الْمَدِينَةِ لِحَاجَتِهِ، وَخَرَجْتُ فِي أَثَرِهِ، فَلَمَّا دَخَلَ الْحَائِطَ جَلَسْتُ عَلَى بَابِهِ، وَقُلْتُ‏:‏ لَأَكُونَنَّ الْيَوْمَ بَوَّابَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يَأْمُرْنِي، فَذَهَبَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَضَى حَاجَتَهُ وَجَلَسَ عَلَى قُفِّ الْبِئْرِ، وَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ، وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ لِيَسْتَأْذِنَ عَلَيْهِ لِيَدْخُلَ، فَقُلْتُ‏:‏ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَوَقَفَ، وَجِئْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقُلْتُ‏:‏ يَا رَسُولَ اللهِ، أَبُو بَكْرٍ يَسْتَأْذِنُ عَلَيْكَ‏؟‏ فَقَالَ‏:‏ ”ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“، فَدَخَلَ فَجَاءَ عَنْ يَمِينِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ‏.‏ فَجَاءَ عُمَرُ، فَقُلْتُ‏:‏ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏:‏ ”ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ“، فَجَاءَ عُمَرُ عَنْ يَسَارِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ وَدَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ فَامْتَلَأَ الْقُفُّ، فَلَمْ يَكُنْ فِيهِ مَجْلِسٌ‏.‏ ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ، فَقُلْتُ‏:‏ كَمَا أَنْتَ حَتَّى أَسْتَأْذِنَ لَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ‏: ”ائْذَنْ لَهُ، وَبَشِّرْهُ بِالْجَنَّةِ مَعَهَا بَلاَءٌ يُصِيبُهُ“، فَدَخَلَ فَلَمْ يَجِدْ مَعَهُمْ مَجْلِسًا، فَتَحَوَّلَ حَتَّى جَاءَ مُقَابِلَهُمْ عَلَى شَفَةِ الْبِئْرِ، فَكَشَفَ عَنْ سَاقَيْهِ ثُمَّ دَلاَّهُمَا فِي الْبِئْرِ، فَجَعَلْتُ أَتَمَنَّى أَنْ يَأْتِيَ أَخٌ لِي، وَأَدْعُو اللَّهَ أَنْ يَأْتِيَ بِهِ، فَلَمْ يَأْتِ حَتَّى قَامُوا‏.‏
قَالَ ابْنُ الْمُسَيِّبِ: فَأَوَّلْتُ ذَلِكَ قُبُورَهُمْ، اجْتَمَعَتْ هَا هُنَا، وَانْفَرَدَ عُثْمَانُ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو موسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک دن مدینہ کے باغوں میں سے ایک باغ کی طرف حاجت کی غرض سے نکلے اور میں بھی آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے ہو لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باغ میں داخل ہو گئے تو میں دروازے پر بیٹھ گیا۔ میں نے کہا: آج میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے کہے بغیر ہی ضرور آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا دربان بنوں گا۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم باغ کے اندر چلے گئے اور حاجت پوری کرنے کے بعد کنویں کی منڈیر پر بیٹھ گئے اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ اتنے میں سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ آ گئے اور اندر آنے کی اجازت مانگی۔ میں نے کہا: رکیے، یہاں تک کہ میں آپ کے لیے اجازت مانگ لوں، چنانچہ وہ رک گئے اور میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آیا اور عرض کیا: اللہ کے رسول! ابو بکر آپ کے پاس آنے کی اجازت مانگتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دو اور جنت کی بشارت بھی سنا دو۔ چنانچہ وہ اندر آئے اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی دائیں جانب بیٹھ گئے، اور اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا لیے۔ پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے تو انہیں بھی میں نے کہا کہ رکیے، یہاں تک کہ میں آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تمہارے لیے اجازت طلب کروں۔ چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اندر آنے کی اجازت دے دو اور جنت کی خوشخبری بھی سنا دو۔ چنانچہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی بائیں جانب آئے اور پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر پاؤں کنویں میں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ منڈیر بھر گئی اور اس میں کوئی جگہ نہ بچی۔ پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ آئے تو میں نے کہا: اپنی جگہ پر ٹھہریے، یہاں تک کہ میں آپ کے لیے اجازت طلب کروں۔ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے اجازت دے دیں اور جنت کی بشارت دے دیں اور اس کے ساتھ آزمائش بھی ہوگی۔ چنانچہ وہ داخل ہوئے اور ان کے ساتھ بیٹھنے کی جگہ نہ پائی تو دوسری طرف سے آ کر ان کے سامنے اپنی پنڈلیوں سے کپڑا ہٹا کر دونوں پاؤں کنویں میں لٹکا کر بیٹھ گئے۔ میں خواہش کرنے لگا کہ میرا بھائی آجائے اور میں اللہ سے دعا کرنے لگا کہ وہ اسے لے آئے، لیکن وہ اس وقت آیا جب وہ اٹھ گئے۔
ابن مسیب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے اس سے یہ تعبیر کی کہ ان تینوں کی قبریں اکٹھی اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کی قبر علیحدہ ہوگی۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَجَالِسِ/حدیث: 1151]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه البخاري، كتاب الفتن: 7097 و مسلم: 2177»
قال الشيخ الألباني
صحيح
الحكم: صحيح
← پچھلی حدیث (1150) باب پر واپس اگلی حدیث (1152) →