حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلامٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَتَانَا رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ صِبْيَانُ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ، وَجَلَسَ فِي الطَّرِيقِ يَنْتَظِرُنِي حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ فَقُلْتُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: فَاحْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بچے تھے۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیجا، اور راستے میں بیٹھ کر میرا انتظار فرماتے رہے یہاں تک کہ میں واپس آگیا۔ سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (اپنی والدہ) سیدہ ام سلیم رضی اللہ عنہا کے پاس جانے سے لیٹ ہو گیا تو انہوں نے پوچھا: تم لیٹ کیوں ہوئے؟ میں نے کہا: مجھے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے کام سے بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا: کس کام سے بھیجا تھا؟ میں نے کہا: وہ راز دارانہ کام تھا۔ انہوں نے کہا: پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْمَجَالِسِ/حدیث: 1139]
تخریج الحدیث
«صحيح: أخرجه مسلم، كتاب فضائل الصحابة: 2482 و أبوداؤد: 5203»
الحكم: صحيح