حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلاَلٍ، عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ الصَّامِتِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ فَرَغَ مِنْ صَلاَتِهِ، فَكُنْتُ أَوَّلَ مَنْ حَيَّاهُ بِتَحِيَّةِ الإِسْلاَمِ، فَقَالَ: ”وَعَلَيْكَ، وَرَحْمَةُ اللهِ، مِمَّنْ أَنْتَ؟“ قُلْتُ: مِنْ غِفَارٍ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا: میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں اس وقت حاضر ہوا جب آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نماز سے فارغ ہو چکے تھے۔ چنانچہ میں پہلا شخص تھا جس نے اسلام کے طریقے پر سلام کہا۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”وعلیک ورحمۃ الله، تم کون سے قبیلے سے ہو؟“ میں نے کہا: قبیلہ غفار سے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1035]
تخریج الحدیث
«صحيح: صحيح مسلم، حديث: 2473»
الحكم: صحيح