بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 1022 — خلوق استعمال کرنے والوں اور گناہگاروں کو سلام نہ کہنا
کتب الادب المفرد كتاب السلام خلوق استعمال کرنے والوں اور گناہگاروں کو سلام نہ کہنا حدیث 1022
حدیث نمبر: 1022 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللهِ بْنُ صَالِحٍ قَالَ‏:‏ حَدَّثَنِي اللَّيْثُ، عَنْ عَمْرٍو هُوَ ابْنُ الْحَارِثِ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ، عَنْ أَبِي النَّجِيبِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ قَالَ‏:‏ أَقْبَلَ رَجُلٌ مِنَ الْبَحْرَيْنِ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ عَلَيْهِ، فَلَمْ يَرُدَّ - وَفِي يَدِهِ خَاتَمٌ مِنْ ذَهَبٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةُ حَرِيرٍ - فَانْطَلَقَ الرَّجُلُ مَحْزُونًا، فَشَكَا إِلَى امْرَأَتِهِ، فَقَالَتْ‏:‏ لَعَلَّ بِرَسُولِ اللهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجِبَّتَكَ وَخَاتَمَكَ، فَأَلْقِهِمَا ثُمَّ عُدْ، فَفَعَلَ، فَرَدَّ السَّلاَمَ، فَقَالَ‏:‏ جِئْتُكَ آنِفًا فَأَعْرَضْتَ عَنِّي‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”كَانَ فِي يَدِكَ جَمْرٌ مِنْ نَارٍ“، فَقَالَ‏:‏ لَقَدْ جِئْتُ إِذًا بِجَمْرٍ كَثِيرٍ، قَالَ‏:‏ ”إِنَّ مَا جِئْتَ بِهِ لَيْسَ بِأَجْزَأَ عَنَّا مِنْ حِجَارَةِ الْحَرَّةِ، وَلَكِنَّهُ مَتَاعُ الْحَيَاةِ الدُّنْيَا“، قَالَ‏:‏ فَبِمَاذَا أَتَخَتَّمُ بِهِ‏؟‏ قَالَ‏:‏ ”بِحَلْقَةٍ مِنْ وَرِقٍ، أَوْ صُفْرٍ، أَوْ حَدِيدٍ‏.‏“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ بحرین سے ایک آدمی نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور سلام کیا، تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے سلام کا جواب نہ دیا۔ کیونکہ اس کے ہاتھ میں سونے کی انگوٹھی تھی، اور اس نے ریشمی جبہ بھی پہن رکھا تھا۔ وہ آدمی غمزدہ ہو کر چلا گیا اور اپنی بیوی کو جا کر بتایا تو اس نے کہا: شاید رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تیرے جبے اور انگوٹھی کی وجہ سے ناراض ہوئے ہوں، لہٰذا انہیں اتار کر پھر جاؤ۔ اس نے ایسے ہی کیا تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے اس کے سلام کا جواب دیا۔ اس نے عرض کیا: میں ابھی ابھی آیا تھا تو آپ نے مجھ سے منہ پھیر لیا؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تیرے ہاتھ میں آگ کا انگارہ تھا۔ اس نے کہا: تب تو میں بہت سارے انگارے لایا ہوں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو تم لائے ہو (یہاں) اس کی کسی کے نزدیک پتھریلی زمین کے پتھروں سے زیادہ اہمیت نہیں ہے۔ لیکن یہ دنیاوی زندگی کا سامان ہے۔ اس نے عرض کیا: تب میں کس چیز کی انگوٹھی پہنوں؟ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: چاندی، پیتل یا لوہے کی انگوٹھی پہن لے۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1022]
تخریج الحدیث
«ضعيف: سنن النسائي، الزينة، حديث: 5209»
قال الشيخ الألباني
ضعيف
الحكم: ضعيف
← پچھلی حدیث (1021) باب پر واپس اگلی حدیث (1023) →