حَدَّثَنَا مَطَرُ بْنُ الْفَضْلِ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِسْطَامٌ قَالَ: سَمِعْتُ مُعَاوِيَةَ بْنَ قُرَّةَ قَالَ: قَالَ لِي أَبِي: يَا بُنَيَّ، إِنْ كُنْتَ فِي مَجْلِسٍ تَرْجُو خَيْرَهُ، فَعَجِلَتْ بِكَ حَاجَةٌ فَقُلْ: سَلاَمٌ عَلَيْكُمْ، فَإِنَّكَ تَشْرَكُهُمْ فِيمَا أَصَابُوا فِي ذَلِكَ الْمَجْلِسِ، وَمَا مِنْ قَوْمٍ يَجْلِسُونَ مَجْلِسًا فَيَتَفَرَّقُونَ عَنْهُ لَمْ يُذْكَرِ اللَّهُ، إِلاَّ كَأَنَّمَا تَفَرَّقُوا عَنْ جِيفَةِ حِمَارٍ.
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا معاویہ بن قرہ رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ مجھ سے میرے والد محترم نے کہا: میرے بیٹے! اگر تم کسی ایسی مجلس میں ہو جس کی خیر کی تمہیں امید ہو اور پھر تمہیں کسی ضرورت کے پیش نظر جلدی جانا پڑے تو «السلام علیکم» کہہ کر جاؤ۔ اس طرح تم اس خیر میں شریک ہو جاؤ گے جو اہل مجلس کو پہنچے گی۔ اور جو قوم کسی مجلس میں بیٹھے اور بغیر اللہ کا ذکر کیے آپس میں جدا جدا ہو جائیں تو وہ ایسے ہیں جیسے مردہ گدھے سے اٹھ کر گئے ہیں۔ [الادب المفرد/كِتَابُ السَّلامِ/حدیث: 1009]
تخریج الحدیث
«صحيح موقوف: سنن أبى داؤد، الأدب، ح: 4855 و جامع الترمذي، الدعوات، ح: 3380»
قال الشيخ الألباني
صحيح موقوف
الحكم: صحيح موقوف